encyclopedia

نبی اورنبوت

Published on: 19-Feb-2026

نبی اورنبوت

اللہ رب العزت نے اپنی مخلوق کی ہدایت کے لیے نوعِ انسانی میں سے بہترین افراد کا انتخاب فرمایا، اور انہیں نبوت و رسالت کے منصب سے سرفراز فرما کر ہر دور اور ہر خطے میں مبعوث فرماتے رہے۔ اس مقالہ میں نبی اور رسول کے لغوی و اصطلاحی مفاہیم، ان کے مابین فرق، انبیاء کی مشترکہ صفات— جیسے صدق، امانت، تبلیغ، عصمت، معجزات، وحی اور علمِ غیب— کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی عقیدۂ نبوت کے مختلف پہلوؤں کو قرآن و سنت کی روشنی میں مدلل انداز سےپیش کیا گیا ہے۔ مزید برآں، نبوت کی مختلف اقسام (تشریعی و غیر تشریعی، بشری نوعیت اور نبی و رسول کے امتیازات) پر روشنی ڈالی گئی ہے۔یہ تحقیق اس امر کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ انبیاء کرام ﷩ نہ صرف اللہ کے پیغام رساں تھے بلکہ وہ ایک جامع ضابطۂ حیات کے عملی نمونے بھی تھے۔

نبوت اور نبی

"نبوت" کی وجہ تسمیہ مختلف لغوی اصولوں سے ماخوذ ہے۔ عربی زبان میں "نبوّت" کا مادہ تین ممکنہ بنیادوں پر مشتمل ہو سکتا ہے: پہلا نَبَاوَةٌ ہے، جس کا معنی ہے بلندی اور رفعت؛ اس لحاظ سے نبی وہ ہستی ہے جسے تمام مخلوقات پر بلند مقام حاصل ہوتا ہے۔ دوسرا نَبَأٌ ہے، جس کے معنی ہیں اہم خبر؛ چنانچہ نبی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی اور اہم خبریں مخلوق تک پہنچاتا ہے۔تیسرا نَبَاةٌ ہے، یعنی خفیہ آواز؛ اس کے تحت نبی وہ ہوتا ہے جو وحی کی صورت میں اللہ کا پیغام سنتا ہے جو دوسروں سے مخفی ہوتا ہے۔ ان تینوں معانی کا مجموعہ نبی کی شان اور ذمہ داری کو واضح کرتا ہے کہ وہ رفعتِ مقام، غیبی علم، اور ربانی پیغام کا حامل ہوتا ہے۔1

رسول

”رسول“ کا مطلب ہے ” بھیجا ہوا“ یا ”پیغام پہنچانے والا “ ۔ اصطلاحی معنی میں ”رسول“ اسے کہا جاتا ہے جسے کتاب عطا کی گئی ہو 2یا کسی شریعت پر عمل در آمد متروک ہونے کی صورت میں از سر نو اس پر عمل در آمد کروانے کی غرض سے بھیجا گیا ہو۔ 3

نبوت اور رسالت میں فرق

"نبوت" عربی لفظ "نبوۃ" سے ماخوذ ہے جو کہ مادہ "ن ب أ" سے نکلا ہے، اور اس کا مفہوم ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ وحی اور پیغام کو انسانوں تک پہنچانا۔ جبکہ "رسالت" کا تعلق لفظ "رسالة" سے ہے جو کہ مادہ "ر س ل" سے مشتق ہے، جس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کا پیغام اور کتاب کو مخلوق تک پہنچانا۔ اس بنا پر "رسالت" ایک جامع تر منصب ہے اور "نبوت" اس کا جزو ہے۔ یعنی ہر رسول کو نبی بھی کہا جاسکتا ہے، لیکن ہر نبی کو رسول نہیں کہا جاسکتا۔ 4 یہی وجہ ہے کہ تاریخ کی کتابوں میں انبیاء کی تعداد زیادہ ملتی ہے جبکہ آسمانی کتابوں کی تعداد کم ہے، کیونکہ رسول کم تعداد میں مبعوث کیے گئے اور صرف انہیں الٰہی کتاب عطا کی گئی۔ مثلاً حضرت موسیٰ کو تورات دی گئی، حضرت عیسیٰ کو انجیل عطا ہوئی، جبکہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو قرآن مجید عطا کیا گیا، جو آج تک محفوظ اور غیر محرف حالت میں موجود ہے۔ ان تمام باتوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول وہ نبی ہوتا ہے جو نئی شریعت اور کتاب لے کر آئے، جبکہ نبی وہ ہوتا ہے جو سابقہ شریعت کی تبلیغ و ترویج کرتا ہے۔

اوصاف نبوت

انبیاء علیہم السلام اللہ کے وہ برگزیدہ اور چنیدہ بندے ہوتے ہیں جن میں درج ذیل اوصاف بدرجہ اتم موجود ہوتے ہیں۔

صدق (سچائی)

نبی ہمیشہ سچ بولتا ہے، اس کی پوری زندگی صداقت کی عملی تصویر ہوتی ہے۔قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے:

وَالَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِه اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ۔335
اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جس نے ان کی تصدیق کی یہی پرہیز گار ہیں۔

اس آیت مبارکہ سے واضح ہے کہ صدق کے ساتھ تشریف لانے والے رسول اللہ ﷺ ہیں اورصدق سے مراد کلمہ طیبہ یا دین اسلام ہے،لیکن چونکہ تمام انبیاء اسی سچ یعنی توحید کے لانے اور اس کی تصدیق کرنے والے ہیں، اس لیے یہ آیت اصولِ صداقت میں تمام انبیاء کرام کی سچی، معصوم اور یکساں راہِ حق کی نمائندگی کرتی ہے۔کیونکہ صداقت ہی تو نبوت کی خصوصیات سے ہے،چناچہ علامہ آلوسی﷫نےحضورﷺکی صداقت کےضمن میں لکھا: ”۔۔۔كان الصدق من خواص النبوة۔۔۔ “6”سچ بولنا نبوت کی خصوصیات میں سے ہے“۔تمام انبیائے کرام ﷨صفتِ صدق سے متصف تھے، اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ان کی سچائی کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔سورۂ مریم آیت 41 میں حضرت ابراہیم کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ نہایت سچے نبی تھے۔ 7اسی سورۂ مریم کی آیت 56 میں حضرت ادریس کو بھی ”صدیق نبی“ 8قرار دیا گیا، یعنی وہ اعلیٰ درجے کے سچے اور نبوت کے منصب پر فائز تھے۔سورۂ یوسف آیت 46 میں جب بادشاہ کا قاصد حضرت یوسف کے پاس خواب کی تعبیر پوچھنے آیا تو اس نے انہیں ”اے نہایت سچے شخص“ 9کہہ کر مخاطب کیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی سچائی عام لوگوں میں بھی معروف اور مسلمہ تھی۔سورۂ مریم آیت 54 میں حضرت اسماعیل کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ وہ وعدے کے سچے تھے اور رسول و نبی تھے ۔10 یعنی ان کی سچائی محض قول تک محدود نہ تھی بلکہ وعدہ پورا کرنے میں بھی کامل تھی۔ان تمام آیات سے واضح ہوتا ہے کہ صداقت انبیائے کرام﷨کی بنیادی اور نمایاں صفت تھی۔ وہ سچ بولنے والے، وعدہ پورا کرنے والے اور اللہ کے پیغام کو پوری دیانت کے ساتھ پہنچانے والے تھے، اور یہی ان کی نبوت کی روشن دلیل تھی۔

تبلیغ (پیغام کو مکمل پہنچانا)

نبی اللہ کی وحی اور احکام کو کسی کمی یا زیادتی کے بغیر لوگوں تک پہنچاتا ہے۔

” یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ “- 6711
اے رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا اس کی تبلیغ فرما دیں۔

یہ آیت منصبِ نبوت کے ایک بنیادی فریضے یعنی کامل تبلیغِ وحی کو واضح کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو قطعی حکم دیا کہ جو کچھ رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اسے بلا خوف و مصلحت پوری طرح پہنچا دیا جائے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کا کام وحی میں کسی قسم کی کمی بیشی کرنا نہیں بلکہ امانت و دیانت کے ساتھ اسے جوں کا توں امت تک پہنچانا ہے۔ یہی صفت انبیائے کرام﷨کی امانت اور صداقت کی روشن دلیل ہے۔

عصمت (معصومیت)

نبی معصوم ہوتا ہے، یعنی گناہوں سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتا۔

”وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰى“ 312
اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتےوہ تو نہیں مگر وحی جو اُنہیں کی جاتی ہے۔

یہ آیت نبی کریمﷺکی عصمت اور منصبِ نبوت کی پاکیزگی کو واضح کرتی ہے کہ آپ اپنی خواہشِ نفس سے کوئی بات نہیں فرماتے بلکہ جو ارشاد فرماتے ہیں وہ وحیِ الٰہی کی روشنی میں ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی اللہ تعالیٰ کی خاص حفاظت میں ہوتا ہے، خصوصاً دین کی تبلیغ اور شریعت کے بیان میں خطا اور گناہ سے محفوظ رکھا جاتا ہے؛ یہی عصمت انبیائے کرام﷨کو عام انسانوں سے ممتاز کرتی ہے اور ان کی اطاعت کو واجب و معتبر بناتی ہے۔

وحی

وحی ایک خاص طریقہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے منتخب بندوں (یعنی انبیاء) کو پوشیدہ طور پر ہدایت یا پیغام پہنچاتا ہے، جو انسانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنتا ہے۔

”اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ“ 16313
بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی

وحی اللہ تعالیٰ کا خفیہ الہامی پیغام ہے جو وہ اپنے برگزیدہ بندوں کے دلوں میں ڈالتا ہے، جیسے آیت میں فرمایا گیا۔نیز یہ پیغام ہدایت، رہنمائی اور حقائقِ دین کی تعلیم کے لیے ہوتا ہے جو انسان کو صحیح راستہ دکھاتا ہے۔علماء کے مطابق وحی کی اصل حقیقت الٰہی تفہیم ہے جو انبیاء کے ذریعے بنی نوع انسان تک پہنچتی ہے۔

معجزات(اللہ کی دی ہوئی نشانیوں کے ساتھ)

ہر نبی کو اللہ کی طرف سے کچھ معجزات عطا کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنی نبوت کی سچائی ظاہر کر سکیں

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ114
قیامت قریب آگئی اور چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔

یہ آیت نبی کریمﷺکے عظیم معجزے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی صداقت ظاہر کرنے کے لیے چاند کو شق فرما دیا، جو کھلی نشانی تھی کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معجزات اللہ کی عطا کردہ نشانیاں ہوتے ہیں جو انبیاء ﷨کی نبوت کی سچائی کو ظاہر کرتے اور منکرین پر حجت قائم کرتے ہیں۔

اہدافِ نبوت

قرآن و سنت کی روشنی میں نبوت کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ 215
وہی ہی جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اسکی آیتیں پڑھتے ہیں اور انہیں پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں

یہ آیت نبوت کے بنیادی مقاصد کو جامع انداز میں بیان کرتی ہے کہ رسول کی بعثت کا مقصد محض پیغام سنانا نہیں بلکہ آیاتِ الٰہی کی تلاوت، لوگوں کا باطنی تزکیہ اور کتاب و حکمت کی تعلیم دینا ہے۔نیزاس سے واضح ہوتا ہے کہ نبوت کا ہدف انسان کی فکری اصلاح، اخلاقی تطہیر اور عملی رہنمائی ہے، تاکہ فرد اور معاشرہ دونوں اللہ کی ہدایت کے مطابق سنور جائیں۔

توحید کی دعوت

لوگوں کو اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت کی طرف بلانا اور شرک و کفر سے بچانا۔

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَۚ3616
اور بیشک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا کہ (اے لوگو!) اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچو

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ تمام انبیائے کرام﷨کی مشترکہ اور بنیادی دعوت توحید تھی، یعنی لوگوں کو صرف اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت کی طرف بلانا اور ہر باطل معبود و طاغوت سے دور رہنے کی تعلیم دینا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کا اولین مقصد عقیدے کی اصلاح ہے، تاکہ انسان شرک و کفر کی تاریکی سے نکل کر خالص بندگیِ رب میں داخل ہو جائے۔

اخلاق و کردار کی اصلاح

لوگوں کے اخلاق سنوارنا، ظلم و فساد سے روکنا اور عدل و انصاف کو فروغ دینا۔

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ417
اور بیشک آپ ضرور عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔

یہ آیت نبی کریمﷺکے عظیم اخلاق کی گواہی دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ آپﷺ کی بعثت کا ایک اہم مقصد انسانی اخلاق کی اصلاح اور کردار کی تطہیر تھا۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ انبیائے کرام ﷨لوگوں کو ظلم، بددیانتی اور فساد سے روک کر عدل، رحمت اور حسنِ اخلاق کو معاشرے میں رائج کرنے کے لیے مبعوث کیے جاتے ہیں۔

بشارت و انذار

نیک لوگوں کو جنت کی خوشخبری دینا اور نافرمانوں کو عذابِ الٰہی سے ڈرانا

فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ۪ 21318
: اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے ہوئے اور ڈر سناتے ہوئے۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انبیائے کرام ﷨کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد بشارت اور انذار ہے، یعنی وہ ایمان و اطاعت اختیار کرنے والوں کو جنت اور رضائے الٰہی کی خوشخبری دیتے ہیں اور سرکشی و نافرمانی کرنے والوں کو عذابِ الٰہی سے خبردار کرتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کا پیغام توازن پر قائم ہے—امید بھی دیتا ہے اور خوف بھی دلاتا ہے—تاکہ انسان رغبت اور رہبت دونوں کے ذریعے سیدھے راستے پر قائم رہے۔

اسوہ حسنہ

نبی اپنی ذات میں دین کا عملی نمونہ ہوتا ہے۔

لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ“ 2119
:بےشک رسول اللہ میں تمہارے لیے نہایت عمدہ نمونہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو فضائل اخلاق اور صفات کمال عطا فرمائیں، جیسے حلم، صبر، زہد، شکر اور تضرع۔ اس کی دلیل یہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ نے اپنے تمام انبیاء کو انہی اعلیٰ اخلاق پر قائم فرمایا۔ جب قرآن انبیاء کا ذکر کرتا ہے تو انہیں”اَلَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ“20 کہہ کر بلند مقام والے نمونے کے طور پر پیش کرتا ہے، جن کی صفات پڑھ کر مومنین سیکھتے اور ان کی پیروی کا حکم پاتے ہیں۔اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کرام﷨اخلاق، عبادت، اطاعتِ الٰہی، صدق، امانت اور صبر میں کامل نمونہ تھے، اور قرآن نے ان کی زندگیوں کو بطور اسوہ بیان کیا ہے۔

عدل و انصاف

انبیاءکرام ﷩کا مقصد لوگوں میں عدل و انصاف قائم کرنا۔

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِۚ“ 2521
بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور عدل کی ترازو اتاری تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کا ایک اہم مقصد معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنا ہے، تاکہ لوگ حق و باطل کے معیار سے آگاہ ہو کر انصاف کے ساتھ عمل کریں۔ اس کے ذریعے انسانیت میں توازن اور سماجی اصلاح کو فروغ ملتا ہے۔

زیرِ نظر مقالہ میں عقیدۂ نبوت کو قرآن و سنت کی روشنی میں نہایت مدلل اور جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ تحقیق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نبوت انسانیت کی ہدایت، تربیت اور فلاح کے لیے اللہ تعالیٰ کا عظیم نظام ہے، جس کے ذریعے رب کریم نے منتخب اور برگزیدہ افراد کو اپنا پیغام پہنچانے کا ذریعہ بنایا۔ انبیاء ﷨کی حیاتِ طیبہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو ہر دور میں انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ نبوت کا یہ سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہوا اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر مکمل ہوا، جن کی تعلیمات قیامت تک کے لیے انسانیت کے لیے راہِ ہدایت ہیں۔


  • 1 محمدعبدالعزیزالفرھاری،النبراس شرح شرح العقائد،بحث الصلوٰۃ علی النبی ،مطبوعہ:اوسکودار،ترکیا،ص 6-7
  • 2 مجمع اللغة العربيه، المعجم الوسيط، باب الراء، ج 1، مطبوعه: دار الدعوة، القاهرة، مصر، ص344
  • 3 محمد بن جرير ابو جعفر الطبرى (متوفى: 310هـ)، جامع البيان في تاويل القرآن (تفسير الطبرى)، باب87، ج2 ،مطبوعه مؤسسة الرسالة، قاهره، مصر، 1420هـ، ص 318
  • 4 صدرالدین محمد الحنفی، شرح العقیدۃ الطحاویۃ، ، السعودیۃ،141ھ، ص: 117۔
  • 5 القرآن،سورۃ الزمر33:39۔
  • 6 الألوسي، شهاب الدين أبو الفضل السيد محمود البغدادي (متوفى: 1270هـ)، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج10، مطبوعه دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، الطبعة الأولى، 1415هـ-1994م، ص 140۔
  • 7 القرآن،سورۃمریم41:19۔
  • 8 القرآن،سورۃمریم56:19۔
  • 9 القرآن،سورۃیوسف46:12 ۔
  • 10 القرآن،سورۃمریم54:19۔
  • 11 القرآن،سورۃ المائدہ67:5
  • 12 القرآن،سورۃالنجم3:53-4
  • 13 القرآن،سورۃالنساء163:4
  • 14 القرآن،سورۃالقمر1:54
  • 15 القرآن،سورۃ الجمعہ2:62
  • 16 القرآن ،سورۃالنحل:36:16
  • 17 القرآن،سورۃ القلم،4:68
  • 18 القرآن،سورۃالبقرہ213:2
  • 19 القرآن ،سورۃ الاحزاب21:33
  • 20 القرآن،سورۃالنساء69:4
  • 21 القرآن،سورۃ الحدید25:57

Powered by Netsol Online